بل[1]
معنی
١ - زمیں کا وہ سوراخ یا بھٹ جو کسی جانور یا کپڑے کا مسکن ہو (جیسے سانپ کا بِل)۔ 'اگر وہ چوہے کے بل میں بھی گھس گیا ہو تو کھود کر پیدا کریں۔" ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ٩٤ ) ٢ - [ مجازا ] تنگ و تاریک مکان کمرہ وغیرہ، محدود جگہ یا علاقہ (وسیع کے مقابلے میں)۔ 'وہاں پہاڑ سا گھر پڑا ہوا ہے یہاں تم ایک بل میں گھسے بیٹھے ہو۔" ( ١٩٣٢ء، میدان عمل، ١٤٠ )
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'ولن' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بِل' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء میں 'خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - زمیں کا وہ سوراخ یا بھٹ جو کسی جانور یا کپڑے کا مسکن ہو (جیسے سانپ کا بِل)۔ 'اگر وہ چوہے کے بل میں بھی گھس گیا ہو تو کھود کر پیدا کریں۔" ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ٩٤ ) ٢ - [ مجازا ] تنگ و تاریک مکان کمرہ وغیرہ، محدود جگہ یا علاقہ (وسیع کے مقابلے میں)۔ 'وہاں پہاڑ سا گھر پڑا ہوا ہے یہاں تم ایک بل میں گھسے بیٹھے ہو۔" ( ١٩٣٢ء، میدان عمل، ١٤٠ )